مقدور نہیں اس کی تجلی کے بتاں کا
جوں شمع سراپا ہو ا گر صرف زباں کا
پردے کو تعین کے دردل سے اٹھا دے
کھلتا ہے ابھی پل میں لسمات جہاں کا
اس گلشن ہستی کی عجیب دید ہے لیکن
جب چشم کھلی گل کی تو موسم خزاں کا
دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازار
لیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا
سودا جو کبھی گاش سے ہمت کے سنے تو
مضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا
ہستی سے عدم تک نقس چند کی ہے راہ
دنیا سے گزرتا سفر ایسا ہے کہاں کا

No comments:
Post a Comment