اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو
میں کہ صدیوں سے ادھوراہوں مکمل کردو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کردو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کردو
دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر
میں تو صحراہوں مجھے پیار کا بادل کردو
اسکے سائے میں مرے خواب مہک انھیں گے
میرے چہرے پہ امیدوں بھرا آنچل کردو
اپنے ہونٹوں سے کوئی مہر لگاؤ مجھ پر
اک نظرپیار سے دیکھومجھے گھائل کردو

No comments:
Post a Comment