بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
گر یہ چاہے ہے خرابی مرے کا شانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
جلوہ ازبس کہ یقاضائے نگہ کرتا ہے
جو ہر آہنہ بھی چاہے ہے مثرگاں ہونا
عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
لے گئے خاک میں ہم داغ تمناہے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صدرنگ گلستاں ہونا
عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا
لذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفاسے توبہ
ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

No comments:
Post a Comment