| Wo Tu Khushbo Hai Huwaon Main Bikhar Jay Ga ( Parveen Shakar) |
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھر تا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے بر زخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی مرے اجدا د کے سر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھر تا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے بر زخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی مرے اجدا د کے سر جائے گا
Wo Tu Khusbu Hai Hawaon Mein Bekhar Jay Ga
Masla Phool Ka Hai Phool Khidar Jay Ga
Hum Tu Samajy Thy Ke Ek Zakham Hai Bhr Jay Ga
Kya Khabar Thi Ke Rag e Jan Mein Utar Jay Ga
Wo Hawaon Ki Tarhan Khana Bajan Phirta Hai
Ek Jhonka Hai Jo Aye Ga Guzar Jay Ga
Wo Jab Aye Ga Tu Phir Us Ki Rafaqat Ke Liye
Mosam Gull Mere Angan Mein Tehar Jay Ga
Akhar Wo Bhi Kahin Reet Pe Bethi Hugi
Tera Ye Pyaar Bhi Darya Hai Utar Jay Ga
Muj Ko Tehzeeb Ke Barzakh Ka Banaya Waris
Jurm Ye Bhi Mere Ajad ke Sir Jay Ga
No comments:
Post a Comment