گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا
جاتجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا
ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی
ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا
اس طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں میں دی
جس طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا
بے بسی سی عجب زندگی میں اک ایسی بھی آئی کہ جب
ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا
خون نے تیر یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں
آنسوؤں نے ادردرو کھی ہوا کے حوالے کیا

No comments:
Post a Comment